طبقاتی تقسیم

انسانی زندگی مسلسل ارتقا ئی عمل سے گزر رہی ہے دن بدن انسانی جدید سازوسامان سے آراستہ ہو رہی ہے۔سائنس کی ترقی ابھی مکمل نہیں ہوئی اس پر کام آج بھی بڑی تیزی سے جاری ہے دوسری جا نب سرد جنگ کے بعد اس کے اثرات پوری دنیا میں پھیل ہوئی ہے۔مغرب میں فلاحی ریاستوں نے بنیادی ضروریات اپنے شہریوں سے چھین لئے ہیں۔سرمایہ داری اور انسانی زندگی کے مابین شدید کشمکش آج بھی جاری ہیں۔دنیا کے بیشتر ممالک جمہوریت کے نام پر اپنے شہریوں کو تھوڑا کچھ سہولیات دے رہی ہے مگر پاکستان جیسے بدقسمت ترقی پزیر ملک کے شہری اج بھی بنیادی انسانی ضروریات سے محروم ہیں۔

پاکستان کے چاروں صوبوں سمیت فاٹا اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان میں لوگوں کے حالات قابل رحم ہیں۔سندھ کے تھر میں آج بھی بچے روٹی اور پانی سے بلبلاتے ہوئے جان دے رئے ہیں خیبرپختونخواہ حالت جنگ میں ہیں بلوچستان میں محرومی کی شدت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہیں۔گلگت بلتستان کے عوام اٹھاسٹھ سالوں سے نوابادیاتی نظام کے سکنجے میں جھکڑے ہوئے ہیں لیکن اس تما م صور ت حال کے باوجود حکمرانوں اور بیوروکریسی کے کردار میں ذرا برابر بھی کوئی کمی نہیں ا رہی ہیں۔

اسلام آباد شہر میں سپریم کورٹ اف پاکستان،وزیر اعظم ہاوس،مختلف ممالک کے سفیروں کے قیام گاہ،سرکاری اور غیر سرکاری دیگر اشرافیہ طبقہ کے اس شہر میں کچھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اج بھی بنیادی انسانی حقوق سے یکسر محروم ہیں۔روٹی،کپڑا،مکان،تعلیم سمیت دیگر سہولیات سے محروم ان بستیوں کو کچھی آبادیوں کے نام سے لوگ یاد کرتے ہیں۔یوں تو وہاں انسان رہتے ہیں مگر سی ڈی اے اور دیگر ملکی ادارے ان کو پختون،پنجابی اور عیسائی کے طور پر جانتے ہیں۔

اسلام اباد جہاں کروڑوں کھربوں کے گھروں میں صرف دوفیصد اشرافیہ رہتے ہیں وہاں ان کچھی بستیوں کے رہائشی اج بھی کچے گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں۔لمحہ فکریہ یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ان کو کچھے گھروں سے بھی نکالا جا رہی ہیں اور کہا یہ جارہا ہے کہ یہ افغان ہیں جب اس کا توڈ پیش کیا گیا تو سی ڈی اے نے بیان دغا کہ عیسائی آبادی کی وجہ سے مسلمان ابادی خطرہ میں پڑگئی ہے اور سیکورٹی خطرہ ہیں۔

کئی سال پہلے جب اسلام اباد کو بنانے لگے تو اس وقت یہ محنت کش طبقہ خیبر پختونخواہ کے قبائلی علاقوں ،ہزارہ،جنوبی پنجاب سے یہاں اباد ہوگئے ہیں اور اپنے پسینے سے اس شہرے اقتدار کو تعمیر کئے۔مختلف علاقوں میں یہ محنت کش آباد ہوگئے اور چالیس سالوں سے اس شہر کے این سی پی شہری بن کے زندگی گزار رہے ہیں۔یہ اقغانی ہے نہ ہندستانی،پاکستان کے قومی شناختی کارڑ ان کے پاس ہیں مگر اپنے گھر سے چند دور اسلام اباد کے پوش علاقوں کے رہنے والے پاکستانیوں جیسے سہولیات ان کو میسر نہیں۔اس کے باوجود آج بھی ان لوگوں کی بہت بڑی تعداد اشرافیہ کے گھروں سے لیکر اسلام آباد کے صفائی پر معمور ہیں۔اگر ایک ہفتہ کیلئے یہ کام کرنا بند کرئے تو اسلام اباد کوڑا کرکٹ میں تبدیل ہوسکتا ہے۔کچھی آبادیوں میں رہنے والے ان محنت کشوں کو سی ڈی اے قبضہ مافیا،وزیر داخلہ دہشت گرد اور بعض میڈیا گروپ افغانی قرار دنے پر تلے ہوئے ہیں۔

گزشتہ سال سی ڈی اے نے بازوربازو ائی الیون کے آبادی مسمار کئے۔عوامی ورکرز پارٹی کی جانب سے کیس دائر کرنے پر باقی ابادیوں کو نہیں گرا سکے اور وہ کیس آج بھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔

قارئین کرام گزشتہ دنوں نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے طلباوطالبات کے ایک فورم (اسلام آباد سٹریٹ سٹور) نے کچی ابادی -10اور E-11 میں کیمپ لگائے تھے۔نسٹ کے شاگردوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کچی ابادی کے ان مکینوں میں کپڑے اور لنگر تقسیم کئے۔بچوں کیلئے سیٹشنری کے سامان تقسیم کیا گیا۔ اس دوران طالبات نے چھوٹے بچوں اور بچیوں کے ماتھے پر مختلف نقشے بنا کر ان کو خوش کرنے کی کوشش کئے۔اس کیمپ کے اخر میں نسٹ کے ان رضاکاروں نے بچوں میں اعتماد پیدا کرنے کیلئے ان کے ساتھ کھیل بھی کھیلے۔

اس کیمپ کے انچارچ حا جیلہ تھی ۔کیمپ کے سیکنڈ انچارچ کامل احسان سے جب میری بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ نسٹ کے طلبا وطالبات اسلام اباد میں غریبوں کے بارے میں سوچ بچار کر رہے ہیں اور اپنی مدد آپ کے تحت مختلف پروجیکٹ غریبوں کے ساتھ ہمدردی کے لئے چلا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ یہ کیمپ بھی اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔کامل کا کہنا تھا کہ انہوں نے D-12 اورE-11 کے رہائشیوں کے ساتھ خوشیاں بانٹنے کیلئے اج یہاں پر جمع ہوگئے ہیں ۔گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والی طالبہ حسینہ امیر کا کہنا تھا کہ اسلام اباد کے کچی ابادیوں میں رہنے والے افراد بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ اس تقسیم کو ختم ہونا چاہے اور ان کے بچوں کو بھی پڑنے لکھنے کے سہولیات ملنی چاہیں جب تک غریب طبقے کو نظرانداز کیا جائے گا تو معاشرے میں امن ،خوشحالی اور بھائی چارگی کو فروغ نہیں مل سکتی ہیں۔

ایک طرف حکمران ،سرکاری و غیر سرکاری ادارے ہیں جن کو شاہد یہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ اس شہر میں لوگ آج بھی روٹی،کپڑا ،مکان اور تعلیم سمیت دیگر بنیادی سہولیات کیلئے ترس رہے ہیں ۔شاید ان کے طر ز حکمرانی میں عوام کے ٹیکس سے بیرونی و اندرونی دوروں کا مزہ لینا ہے ۔غریب کے بجٹ سے جیب بھرنا ہے اور ترقیاتی منصوبوں کے نام پر کمیشن وصول کرکے اپنے اولادوں کیلئے جائیداد بنانا ہے۔سامراجی طاقتوں کے ایجنٹ پاکستانی خاندانی سیاستدانوں نے شاید یہ قسم کھا رکھی ہے کہ اس ملک میں لوٹ کھسوٹ کرکے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرے اور سامراجی قوتوں کے آلہ کار بن کر اس دیس کے محنت کشوں کے زندگی اجیران کردے۔

بالعموم اس نفسانفسی کے دور میں انفرادی خواہشات کے طابع معاشرے میں اور بالخصوص نسٹ جیسی تعلیمی ادارے کے طلبہ و طالبات کے مثبت اور برابری کے سوچ پاکستان کے لئے اور یہاں کے محنت کش طبقہ کیلئے امید کی کرن ہیں۔انسانیت سے محبت کرنے اور بنی نوع انسان کے درمیان غیر انسانی تقسیم کو تسلیم نہ کرنا اس مادیت پسندی کے دور میں بہت مشکل کام ہے۔تاج برطانیہ نے ہندوستان کو تقسیم کیا اور پاکستان کو جاگیرداروں کے حوالہ کرکے چلا گیا۔سیاسی اداروں بالخصوص طلبہ سیاست کو اس ملک میں پنپنے نہیں دیا گیا ۔تعلیمی ادروں میں ضیاالحق کے زمانے میں اسلحہ کلچر متعارف کرائی گئی۔تعلیمی نصاب میں انسانی ہمدردی کے جگہ میں فرقہ وارانہ مواد اور تشدد کو اجاگر کیاگیا۔ خاض سوچ کے ذریعے ریاست کو انتہاپسندوں کیلئے نرسری کا درجہ دیا گیا۔اس ملک میں بہتری کیلئے سوچنے پر تادم تحریر پابندی عائد ہیں جبکہ اپ چائیے تو مخالف نسل،فرقہ اور سوچ رکھنے والوں کے خلاف سرے بازار نفرت کا اظہار کرسکتے ہوں بشرط کہ اس نفرت کے ساتھ اپ ریاست کے نااہلی پر سوال نہ اٹھاؤ۔مخالف کو نچلے درجے کے شہری،کافر اور وطن دشمن کہنے کے ساتھ اگر اپ فوجی و سول افسرشاہی کے ہر اقدام کی غیر مشروط پر حمایت کرئے تو اپ کو کوئی نہیں پوچھے گا۔ضرب عضب،نیشنل ایکشن پلان،پاکستان پروٹیکشن بل ،اے ٹی اے و دیگر قوانین سے مکمل محفوظ رہیں گے۔

اخر کار اس ملک کے شہریوں کو سوچھنا چائیے کہ نجات کا راستہ کونسا ہے۔نسٹ کے ان طلبہ و طالبات نے جس اصلاحی کام کا اغاز کیا ہے وہ قابل ستائش عمل ہے مگر کیا ہم طلباوطالبات،صحافی حضرات،دانش وروں اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والوں کے ان کاموں سے یہ خونی نظام بدلے گا؟کیا ہم کچی آبادیوں سے لیکر تھر کے انسانوں کا مدد کر پائیں گے؟کیا اس عمل سے وزیر ستان میں کوئی تبدیلی ائے گی؟کیا بلوچستان کے محرومیوں کو ختم ہونے میں مدد ملے گی؟کیا گلگت بلتستان اور کشمیر کے انسانوں کو بنیادی انسانی حقوق اور اس نوآبادیاتی نظام سے چھٹکارا مل سکے گی؟ یقیناً اس تمام سوالوں کے حل طلب جواب اس طرح کے اصلاحی کاموں سے ملنا مشکل ہے۔اس سرزمین میں غیر انسانی اس سماج کو تبدیل کرنے کیلئے ہمیں اس ملک کے 98 فیصد عوام کو لیکر جدوجہد کرنا پڑے گی۔جس میں طلبہ،کسان،مزدور،ہاری،مظلوم اقوام و فرقوں کے ساتھ مختلف اکائیوں کی نمائندگی ہوں

Sharing is caring!

About admin

Daily Mountain Pass Gilgit Baltistan providing latest authentic News. Mountain GB published Epaper too.

24 comments

  1. Excellent post. I was checking constantly this blog and
    I am impressed! Extremely useful info specially the last part
    🙂 I care for such information a lot. I was looking for this certain information for a very long time.

    Thank you and best of luck.

  2. Spot on with this write-up, I actually believe this web site needs a great deal more attention. I’ll probably be returning
    to read through more, thanks for the advice!

  3. Quality posts is the main to invite the visitors to pay a visit the website, that’s what this
    web site is providing.

  4. Hi! I could have sworn I’ve been to this website before but after browsing through some of the post I realized
    it’s new to me. Anyways, I’m definitely delighted I found it and I’ll be bookmarking and checking back often!

  5. Today, I went to the beach front with my children. I found a sea shell and gave it to my 4 year old daughter and said “You can hear the ocean if you put this to your ear.” She placed the shell to her
    ear and screamed. There was a hermit crab inside and it
    pinched her ear. She never wants to go back! LoL I know this is entirely off topic but I had to tell someone!

  6. Hello friends, its enormous paragraph on the topic of teachingand completely explained, keep it up all the
    time.

  7. Superb, what a weblog it is! This web site provides valuable information to us, keep it up.

  8. Hey there! This is kind of off topic but I need
    some advice from an established blog. Is it hard to set up your own blog?
    I’m not very techincal but I can figure things out pretty quick.
    I’m thinking about creating my own but I’m not sure where to begin. Do you have any points
    or suggestions? Thanks

  9. When I initially commented I clicked the “Notify me when new comments are added”
    checkbox and now each time a comment is added I
    get four e-mails with the same comment. Is there any way you can remove me from that
    service? Appreciate it!

  10. I have been surfing online more than 2 hours today, yet I never found
    any interesting article like yours. It is pretty worth
    enough for me. Personally, if all webmasters and bloggers
    made good content as you did, the net will be much more
    useful than ever before.

  11. It’s perfect time to make a few plans for the future and it’s time to be happy.
    I’ve learn this put up and if I may I want to
    recommend you some attention-grabbing things or
    suggestions. Perhaps you could write next articles relating to this article.
    I desire to learn even more things approximately it!

  12. I read this paragraph completely about the difference of most up-to-date and preceding technologies, it’s awesome article.

  13. Write more, thats all I have to say. Literally, it seems as though you relied on the video to make your
    point. You obviously know what youre talking about,
    why throw away your intelligence on just posting videos to your site when you could be giving us something enlightening to read?

  14. I every time spent my half an hour to read this website’s content everyday along with
    a mug of coffee.

  15. This blog was… how do I say it? Relevant!! Finally I’ve found something that helped me.
    Thank you!

  16. Do you have a spam problem on this blog; I also
    am a blogger, and I was wanting to know your situation; many of us have created some nice procedures
    and we are looking to swap solutions with other folks,
    be sure to shoot me an email if interested.

  17. What’s up, this weekend is fastidious in support of me, for the
    reason that this point in time i am reading this impressive
    educational paragraph here at my house.

  18. Incredible! This blog looks exactly like my old one!

    It’s on a completely different topic but it has pretty much the same layout and design. Great choice of colors!

  19. Woah! I’m really digging the template/theme of this website.
    It’s simple, yet effective. A lot of times it’s very difficult
    to get that “perfect balance” between usability and visual appeal.

    I must say you have done a great job with this. In addition, the blog loads super fast for me on Chrome.
    Outstanding Blog!

  20. Hello, i think that i saw you visited my site so i came
    to “return the favor”.I’m trying to find things to
    enhance my site!I suppose its ok to use a few of your ideas!!

  21. Good web site you’ve got here.. It’s hard to find
    high quality writing like yours these days. I truly appreciate
    individuals like you! Take care!!

  22. It is appropriate time to make some plans for the future and
    it is time to be happy. I have read this post and if I could I wish to suggest you some interesting
    things or tips. Perhaps you can write next articles referring to this article.
    I want to read even more things about it!

  23. you are truly a good webmaster. The web site loading
    pace is amazing. It seems that you’re doing any unique trick.
    In addition, The contents are masterpiece.
    you’ve performed a excellent task in this subject!

  24. I’m gone to inform my little brother, that he should
    also pay a quick visit this website on regular basis to get updated from hottest reports.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.