تابناک مستقبل کیلئے پاک بھارت تنازعات میں کردار ادا کرنے کو تیار ہیں ،چین

تابناک مستقبل کیلئے پاک بھارت تنازعات میں کردار ادا کرنے کو تیار ہیں ،چین
دونوں ممالک عوامی فلاح و بہبود اور اقتصادی ترقی پر توجہ دیں،چین ہمسائیہ ممالک کیساتھ بہتر تعلقات کا خواہشمند ہے، بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ چینی سفارتکاری کا بنیادی جزو ہے
اپریل میں منعقدہ اوبور فورم میں 100ممالک کے ہزار ہا نمائندگان شرکت کریں گے،چین تمام تنازعات کاپر امن حل چاہتا ہے، چینی وزیر خارجہ وانگ ژی
بیجنگ(آئی این پی)چین نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں عوامی فلاح و بہبود امن و استحکام اور اقتصادی ترقی کیلئے پاک بھارت مابین امن کیلئے چین ہر مدد کرنے کو تیار ہے، چین کا ترقی کیلئے ایک واضح موقف ہے جو امن ہے، چین اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ ہر سطح پر بہتر تعلقات کا خواہشمند ہے، بیلٹ اینڈ روڈ فورم کا انعقاد اپریل میں بیجنگ میں ہوگا جس میں 100ممالک کے ہزارہا نمائندگان شرکت کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی نے 13ویں نیشنل کانگریس کے دوسرے سیشن کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مختلف سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ تابناک مستقبل کیلئے چین پاک بھارت تعلقات میں امن و آشتی کیلئے ہر ممکن مدد اور تعاون کرنے کو تیار ہے۔ دونوں ممالک کو امن قائم کرتے ہوئے عوامی فلاح و بہبود اور اقتصادی و معاشی اور عوامی فلاح و بہبود بارے چین کا موقف واضح اورائل ہے۔ کہ امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ چین اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ ہمیشہ سے بہتر اور مفید تعلقات کا حامی رہا ہے۔ وانگ ژی نے مزید کہا کہ چین دنیا کی ابھرتی ہوئی دوسری بڑی طاقت ہے یہ سفر طے کرنے میں چین کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا لیکن چین ان تمام مسائل سے نبرآزما ہوا۔ عالمی ترقی کیلئے چین کی سفارتکاری اہم کردار ادا کرتی ہے جس کا واحد مقصد باہمی مفادات پر مبنی ترقی ہے۔ چین کی ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ چین کے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات ہوں۔ انہوں نے کہا روس اور چین کے تعلقات اعلیٰ سطح تک پہنچ چکے ہیں جن کو اب بیرونی اثرات کا کوئی خطرہ نہیں ان تعلقات کی مزید مضبوطی کیلئے دنوں ممالک کے سربراہان رواں سال ایک دوسرے ملک دورہ کریں گے۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ چین کی سفارتکاری میں اہم ترین مقام کا حامل منصوبہ ہے جس پر تیزی سے کام جاری ہے۔ رواں برس اپریل میں کے چین کے دارالحکومت میں بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا دوسرا فورم منعقد کیا جائے گا۔ جس میں 100ممالک کے ہزاروں نمائندگان شریک ہونگے۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ کو عالمی سطح پر بہترین پذیرائی حاصل ہورہی ہے۔ انہوں نے چین اور امریکہ مابین تجارتی کشیدگی بارے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو کشیدگی میں کم لاتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کو بڑھانا ہوگا۔ تاکہ دوطرفہ مفادات حاصل کیے جاسکیں ۔ بحیر جنوبی چین کے تنازعے بارے انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کو پرامن طریقے سے حل کرایا جائیگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاک بھارت تنازعات اور شمالی کوریا تنازعہ کو بھی پرامن طریقے سے حل کیا جائے۔ یہ تمام بنیادی مسائل میں لیکن چین ان مسائل کے پرامن حل کیلئے تمام صلاحتیں رکھتا ہے۔ چین اور چاپان مابین تعلقات بھی بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ یہ سب اصولوں ، باہمی مفادات اور بہتر سفارتکاری کی وجہ سے ممکن ہوا۔ وانگ ژی نے کہا کہ وینزویلا کی سچویشن بھی کافی خراب ہے۔ وینزویلا کی آزادی و خودمختاری کا خیال رکھا جانا چاہیے۔ چین کسی بھی ملک کی آزادی و خودمختاری میں دخل اندازی کی سختی سے مخالفت کرتا ہے

Sharing is caring!

About admin

Daily Mountain Pass Gilgit Baltistan providing latest authentic News. Mountain GB published Epaper too.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.