گلگت میں خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات میں اضافہ

تحریر: طاہر رانا
گلگت کا شمار بھی اب بڑے شہروں میں ہونے لگا ہے اور اگر بات کی جائے آبادی کی تو کچھ سال قبل جہاں کھلے میدان ہوتے تھے وہاں اب چھوٹے بڑے مکان تعمیر ہو چکے ہیں ، گھروں کے بیچ تنگ اور سنسان گلیاں خواتین کیلئے خوف کی علامت بن چکی ہیں۔
گلگت شہر میں پچھلے کچھ عرصے میں درجن سے ذائد خواتین کے ساتھ ہراسانی کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ لیکن ایک بھی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا ۔ کیونکہ کسی خاتون نے ایسے واقعے کو رپورٹ کرنے کی ہمت ہی نہیں کی۔ ان متاثرہ خواتین میں سے ایک کا کہنا تھا کہ اگر ہم کسی کو یہ بتائیں کہ ہمارے ساتھ ایسا ہوا ہے پھر معاشرہ ہمیں ہی بدنام کریگا۔ ایسے اوباش اور بد کردار لوگ زیادہ تر ایسی خواتین کو ٹارگٹ کرتے ہیں جو  ملازمت یا پڑھائی کے سلسلے میں ہاسٹلز یا اپنے گھر سے اکیلی نکلتی ہیں ۔
کچھ واقعات میں پوری ذمہ داری لیکن اخلاقی دائرے میں رہتے ہوئے یہاں شیئر کر رہا ہوں تاکہ متعلقہ ادارے اس پر ایکشن لیں اور عوام ہوشیار رہیں ۔
ایک خاتون نے بتایا کہ وہ اپنی جاب سے گھر جا رہی تھی کہ راہ چلتے اکیلے پا کر ایک شخص نے اچانک اسکا ہاتھ پکڑا جس پر اس نے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی اور چیخنا شروع کیا جس پر وہ شخص وہاں سے بھاگ گیا اسکا کہنا تھا کہ وہ شخص گلگت بلتستان کا نہیں لگ رہا تھا۔
ایک دوسری خاتون کا کہنا تھا کہ وہ ہاسٹل سے نکل کر اپنی گلی سے سڑک کی طرف آ رہی تھی ، گلی میں اس وقت کوئی نہیں تھا اور ساتھ وہ فون پر بات کر رہی تھی۔ کہ ایک شخص نے اچانک اس کو پکڑنے کی کوشش کی۔ اس خاتون کا کہنا تھا کہ جب میں نے چیخنا شروع کیا تو اس شخص نے مجھے چھوڑ دیا اور چلا گیا تب تک کسی نے بھی ایسا ہوتا نہیں دیکھا تاہم اسے اب اپنی ہی گلی سے خوف محسوس ہوتا ہے۔
تیسرا واقعے میں ایک خاتون گلی سے جا رہی تھی کہ ایک موٹر سائیکل سوار وہاں سے گزر رہا تھا اکیلی لڑکی دیکھ کر بائیک اس کے قریب کھڑی کر دی اور لڑکی کو غلط اشارے کرنے لگا اور قبیح حرکت کی دعوت دینے لگا ، اس خاتون نے بھی چیخ کر اپنی جان چھڑائی۔
ایسی کئی خواتین اور بھی ہیں جن پر آوازیں کسی جاتی ہیں لیکن اپنی عزت کے خراب ہونے کے ڈر سے وہ ایسے واقعات کی رپورٹ درج نہیں کراتیں ۔ ایک ایسا ہی واقعہ رمضان کے مہینے میں بھی پیش آیا ہے جس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔
یہ واقعات کہاں پیش آئے اور کن کے ساتھ پیش آئے انکے نام اور محلوں کے نام یہاں اس لئے نہیں لکھ رہا تاکہ ان کی بدنامی نہ ہو البتہ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے رابطہ کریں تو انہیں ضرور نشاندہی کرونگا تاکہ معاشرے سے ایسے کرداروں کو بے نقاب کیا جا سکے۔
گلگت شہر جہاں خواتین کی عزت پر لوگ آنچ آنے نہیں دیتے تھے ، اب ایسے واقعات کا پیش آنا انتہائی افسوس ناک امر ہے ، اوباش اور آوارہ لوگوں کی وجہ سے پورا معاشرہ بدنام ہو رہا ہے، ایسے کرداروں کو بے نقاب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔

Sharing is caring!

About Samar Abbas Qazafi

Samar Abbas Qazafi is Cheif Editor / Owner of Daily Mountain Pass Gilgit Baltistan and Executive Editor of Daily Qayadat GB.