باصلاحیت یوتھ،جہت کی منتظر

تحریر: حسن آرا اسسٹنٹ پروفیسر/پرنسپل
یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ ہماری یوتھ صلاحیتوں سے بھرپور ہر کام میں اپنا لوہا منوانے کے لیے پرعزم ہے۔یہ ایک آفاقی حقیقت ہے کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی اور خوش حالی میں نوجوانوں کا کردار کلیدی ہے۔نوجواں خواہ مرد ہوں یا عورت ہمیشہ کچھ کر گزرنے کے جذبے سے سرشار ہوتی ہے۔اب یہ معاشرے پر انحصار کرتا ہے کہ وہ ان کی صلاحیتوں اور عزائم کو کس دھارے کی طرف موڑتا ہے۔یاد رکھیں نوجوان نسل دریا کے لہروں کی مانند ہوتی ہے اب یہ دریا کے بہاو پر منحصر ہے کہ وہ ان لہروں کا رخ کس طرف موڑتی ہے۔بد قسمتی سے ہم ہمیشہ ایک ایسا دریا بننے کی کوشش کرتے ہیں جو اپنے بہاو کو ہمیشہ ایک ہی سمت میں دھکیلتا ہے نتیجے کے طور پر اس کی لہریں ہمیشہ ایک ہی سمت کی طرف بہتی ہیں۔لیکن اگر اسی دریا کی لہریں چاروں طرف بہے تو ہر سمت ہمیں سبزہ اور خوش حالی نظر آئے لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے اسی لیے کچھ جگہے سر سبز اور خوش حال ہیں تو کچھ جگہوں میں قحط سازی اور خشک سالی۔دریا تو بس دریا ہے اس کے بس میں یہ ہرگز نہیں کہ وہ اپنی لہروں کو چاروں طرف پھیلادے کیونکہ وہ اس قدرتی قوت کا محتاج ہے جو اسے ایک ہی سمت کی طرف دھکیلتی ہے لیکن انسانی معاشرے اس معاملے میں خود مختار ہوتے ہیں وہ اپنی لہروں یعنی یوتھ کو اپنی منصوبہ بندی اور حکمت عملی سے ہر سمت پروان چڑھا سکتے ہیں یہ سمت چاہے کھیل کود کا میدان ہو چاہے سائنس و ٹیکنالوجی کا شعبہ علم و ادب یا طب کا شعبہ ہو یا  منیجمنٹ اور قیادت کا میدان لیکن بدقسمتی سے بہت  کم معاشرے ایسے ہیں جو واقعی اپنی یوتھ کے رجحانات کو مد نظر رکھتے ہوئے انہیں ایسے پلیٹ فارم مہیا کرتے ہیں جہاں سے استفادہ کرتے ہوئے وہ اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھا تے ہیں اور معاشرے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔یہ معاشرے ترقی یافتہ کہلاتے ہیں اور ترقی اور خوشحالی میں بہت آگے ہوتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کا سب سے قیمتی اثاںہ ان کی یوتھ ہے اور کیسے ان کی صلاحیتوں کو ایکسل کرنا ہے اور انہیں معاشرے کی بھاگ دوڑ سنبھالنے کے قابل بنانا ہے۔
ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم ہمیشہ اپنی یوتھ کو ہی موردالزام ٹھہراتے ہیں اور یہی رٹ لگائے رہتے ہیں کہ آج کل کی یوتھ بہک گئ ہے،اپنی پٹری سے ہٹ گئ ہے،محنت سے گریزاں ہے لیکن بحیثیت معاشرے کے ذمہ دار افراد کے اپنا بیشتر وقت یوتھ کی اصلاح اور مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے کے بجائے نکتہ چینی اور بے جا تنقید میں ضائع کر دیتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم ایک ایسی یوتھ کے سرپرست ہیں جن کے حوصلے ماونٹ ایورسٹ سے بھی زیادہ بلند ہیں۔ماونٹ ایورسٹ سر کرنا برفیلے  پانی میں تیراکی جیسے کٹھن کام بطور مشغلہ کرنا ان کے لئے عام سی بات ہے۔یہ اس بات کی غمازی ہے کہ ہماری یوتھ ہر قسم کے کٹھن حالات اور راستوں پر چلنے کے لئے تیار ہے بس کمی ہے تو ایسے پلیٹ فارم کی جہاں پر سے گزر کر وہ  اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھائے اور اپنے لیے مثبت سمت کا تعین کرے۔لیکن یہ مثبت سمتیں فراہم کرنا معاشرے کی ذمداری ہے۔ہمیں وہ دریا نہیں بننا جو اپنی لہروں کو صرف ایک ہی سمت فراہم کرتا ہے بلکہ اس بادل کی مانند بننا ہے جو چاروں طرف اڑتا ہے اور بارش ہر طرف برستی ہے۔
اس بات کو تسلیم کر لیں کہ ہماری یوتھ قصور وار نہیں ہے قصور وار ہم ہیں جو انہیں سمجھ نہیں پارہے ہیں اور اپنی بے جا تنقید کی زد میں لا کر انہیں خود سے اور ان کے اصل مقصد سے دور کر رہے ہیں۔انہیں صرف ایک کے بجائے کئی پلیٹ فارم مہیا کرے اور اس کے لیے حکومتی اور نجی سطح پر تمام افرادی اور دیگر وسائل کو بروئے کار لائیں۔ جو لوگ اس حوالے سے کام کر رہے ہیں ان پر تنقید کرنے کے بجایے ان کی حوصلہ افزائی کریں یاد رکھیں اگر آپ عملی طور پر کچھ نہیں کر سکتے ہیں تو آرام سے بیٹھ کر تنقید کرنے کا بھی کوئی حق نہیں رکھتے۔تنقید برائے تنقید کی بجائے تنقید برائے اصلاح پر توجہ دیں اور یہ تب ہی ممکن ہے جب آپ لفاظی کے بجائے عملی اقدامات کی طرف راغب ہوں۔اپنے معاشرے اور کمیونٹی کے مذہبی معاشرتی نفسیاتی اور معاشی  تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے پلیٹ فارم تشکیل دیں جہاں پر یوتھ پروان چڑھے اور ترقی کے دھارے میں صف اول کے معاشروں میں شامل ہو جائے۔آپ جہاں اور جدھر ہیں وہی سے اپنی کوششوں کا آغاز کریں حالات اور زمانے کو دوش نہ دے یہ سب ہمارے اپنے پیدا کردہ ہیں۔ہماری کام چوری اور سستی سے جہاں یہ بگڑ جاتے ہیں وہی پر ہماری حکمت عملی اور محنت سے ہی یہ سنور سکتے ہیں۔ہمیں اپنے معاشرے کو حالات کے دھارے پر نہیں چھوڑنا ہے بلکہ حالات کی ڈور اپنے ہاتھوں میں لے کر اپنی اور اپنے نسلوں کی قسمت خود اپنے ہاتھوں سے لکھنے کے قابل ہونا ہے کیونکہ فطرت کا بھی یہی اصول ہے کہ وہ کسی بھی فرد  معاشرے یا قوم کی تقدیر اس وقت تک نہیں بدلتی جب تک وہ اپنی قسمت خود بدلنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔اپنی یوتھ سے پرامید رہیں آگے بڑھئے اور اپنے حصے کا دیا جلائے۔یاد رکھیں کہ دیے سے ہی دیا جلتا ہے اور چاروں طرف روشنی پھیلتی ہے۔

Sharing is caring!

About Samar Abbas Qazafi

Samar Abbas Qazafi is Cheif Editor / Owner of Daily Mountain Pass Gilgit Baltistan and Executive Editor of Daily Qayadat GB.